نیاپاکستان ہاؤسنگ سکیم

تحریر:علی جان۔۔

131

پرانے گھرمیں نیاگھربسانا چاہتا ہے
وہ سوکھے پھول میں خوشبوجگاناچاہتا ہے
ایک خواب جسے تعبیرملی کہ عمران خان پاکستان کا وزیراعظم ہو اوردوسراخواب کہ نیا پاکستان بنے گا جس کیلئے پراسس چل رہا ہے عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے ہمارے آگے 100دن کے پلان رکھے اورہم نے اپنا قیمتی ووٹ دے کرانہیں کپتان پاکستان بنا دیاجیسا کہ سننے میں آتارہتا ہے کہ خان صاحب مشکل فیصلے کرنے کے ماہرمانے جاتے ہیں توانہوں نے نئے پاکستان کوقائداعظم کے خواب کے مطابق بنانا ہے جس کیلئے ہم ان کے ساتھ ہیں خان صاحب نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر 100دن کا ایجنڈہ چھ نکات پرمشتمل تھاکہ1۔طرزحکومت میں تبدیلی جس میں تمام ادارے جراٗت مندی اورایمانداری سے کام کریں گے2۔وفاق اورصوبوں کو مضبوط بنائیں گے3۔اقتصادی ترقی کا جائزہ جس میں معیشت کو ترقی کی طرف لے جانااورغریب طبقہ کیلئے50,00000پچاس لاکھ مکانات کی تعمیر4۔زراعت کی بہتری اورپانی کی بچت جس میں ڈیم بنانے اورکسانوں کوآسان قرض دیے جائیں گے 5۔سماجی خدمات میں انقلاب جس میں صحت کارڈ،بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کادائرہ کار بڑھانا،عورتوں کی ترقی کیلئے اقدامات6۔قومی سلامتی کو یقینی بناناجس میں خان صاحب نے کہا تھا کہ تمام ممالک کے ساتھ برابری کے تعلقات بنائیں گے اوراپنے ملک پرآنچ تک نہ آنے دیں گے ان وعدوں میں سے کچھ تکمیل میں ہیں کچھ کا پتہ نہیں کب شروع ہونگے اورشروع ہوں گے یا نہیں ان پرابھی سوالیہ نشان بنا ہواہے مگرایک وعدہ جس میں 50لاکھ مکانات کا تھا اس کی طرف غریب طبقہ اپنی آنکھیں بچھائے بیٹھا ہے جس میں کچھ اضلاع میں یہ منصوبہ سنوائی دیا ہے کہ اس پرعمل درآمدشروع ہوگیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا تھا کہ یہ50لاکھ مکان 5مرلہ میں تعمیرہوگاجو ایک چھوٹی فیملی کیلئے بہترین ہے اس پانچ مرلہ گھرکا کورڈ ایریا 1500سکوائرفٹ ہے ایک سادہ گھرکی مزدوری ایک ہزارروپے فی سکوائرفٹ ہوگی اور ایک گھرتقریباً15لاکھ روپے میں تعمیرہوگااس طرح 10لاکھ گھروں کی قیمت 15کھرب بنتی ہے اور15لاکھ گھروں کاخرچ75لاکھ روپے بنتا ہے جبکہ ایک گھرکی تعمیرکے دوران 30/40انڈسٹریوں میں کام شروع ہوجاتا ہے اور10مزدورسنگل شفٹ کرنے پر ایک سال میں 10لاکھ گھرتعمیرہوں گے اورپانچ سال میں پچاس لاکھ گھروں کا خواب پوراہوگا اور ایک کروڑ مزدوروں کو پانچ سال کیلئے مسلسل روزگارملے گااسی لیے اسی ایک پراجیکٹ سے ہی 1کروڑ نوکریوں کا ٹارگٹ پوراہوتا ہے اوراس پراجیکٹ کیلئے2.5لاکھ ایکڑ زمین درکارآئے گی اورلینڈپراجیکٹ کیلئے مزید15کھرب درکارہوں گے ۔وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا تھا توانکا رونا
بھی پہلی حکومتوں سے ہٹ کرنہ تھا کہ پچھلی حکومتوں نے ملک کو لوٹ کرمقروض کردیا اوراب یہ قرض اتنا ہوگیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے پاس اتنے ڈالر نہیں کہ قرضے کی قسطیں اداکرسکیں پاکستان پر یہ قرض 18ارب ڈالرہوچکا ہے اورتحریک انصاف جو قرض لے رہی ہے وہ قرض اتارنے کیلئے نہیں بلکہ قرض کی قسطیں اداکرنے کیلئے ۔امریکہ میں 80فیصد لوگ قرض لے کرگھربناتے ہیں انڈیا میں بھارت میں 11%پاکستان میں0.25فیصدلوگ قرض لے کرگھربناتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اوروزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ60دن میں رجسٹریشن کا پراسس پورا ہوجائے گااور90دن میں نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کردی جائے گی اس سکیم کے تحت 7اضلاع میں کام شروع کردیا گیا ہے جن میں فیصل آباد،سکھر،کوئٹہ،ڈی آئی خان،اسلام آباد،گلگت،مظفرآباد،میں 22اکتوبرسے رجسٹریشن نادرا کے مطابق کرائی جائے گی جس کا وقت 60دن بتایا گیا ہے یاد رہے کہ رجسٹریشن کرانے والے تمام افرادکوگھرملنا ضروری نہ ہے پہلے مرحلے میں 16گریڈ کے سرکاری ملازمین رجسٹریشن کراسکیں گے اورجو پہلے سے کسی گھرکے مالک ہیں ان کواس سکیم میں شامل نہ کیا جائے گا۔پاکستان جیسے ترقی پذیرملک میں مکان کی خواہش پوری کرنا ہرایک کے بس کی بات نہیں اس منصوبہ کے شروع ہوتے ہی یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ منصوبہ پورانہ نہیں ہوگااورپہلے والی حکومتوں کی طرح یہ وعدے بھی باتوں تک رہ جائیں گے یادرہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم سمیت کئی بڑے منصوبے شروع توہوئے مگرحکومت کے جانے کے بعدمنصوبے بھی ٹھپ ہوکررہ گئے مگرمیرایقین ہے50لاکھ گھروں کا منصوبہ ضرور پوراہوگااورجس میں 5,10 ،7اور15مرلہ میں مکانات تعمیرہونگے اورمزیدغریب طبقہ کومدنظررکھتے ہوئے یہ مکانات کئی جگہوں پر سنگل سٹوری اورکئی جگہوں پرفلیٹ کی صورت میں بنائے جائیں گے مگراس سے پہلے جودرخواستیں وصول ہونگی انکو مدنظررکھتے ہوئے مکانات تعمیرکرائے جائیں گے اس رجسٹریشن کی فیس250روپے ہے اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ غریب طبقہ کے لوگ جن کی تنخواہ20,000سے 25,000ہے وہ مکان کی20ہزار قسط ماہانہ ادا کرنہیں سکتے اگر10,000ماہانہ قسط ہوتویہ قسطیں وصول کرنے میں بیسوں سال لگ جائیں گے توکون اتنی معاشی قیمت چکائے گاپاکستان کی پہلی ہاؤسنگ سکیمیں اس وجہ سے ناکام ہوئیں کیونکہ ان میں حقدارکے بجائے سرمایہ داروں کوگھروں کی چابیاں دی گئیں مگرعوام امیدکررہی ہے کہ تحریک انصاف سفارش ، کرپشن،اورسرمایاداروں سے بچ بچاکے مستحق لوگوں کونیاپاکستان ہاؤسنگ سکیم کی چابیاں تھمائے گی جس سے آنے والی نسلوں کا مستقبل سنورجائے گااورہمارا اپنا گھرہوگا۔

اب گھربھی نہیں گھرکی تمنا بھی نہیں
مدت ہوئی سوچا تھاگھرجائیں گے ایک دن

آخرمیں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے یہ کہنا چاہوں گا کہ خان صاحب آپ نے سب سے زیادہ سیٹیں سرائیکی وسیب سے حاصل کی ہیں تو یہ ہاؤسنگ سکیم وہیں سے ہی شروع کرتے اوراس خطہ کے لوگ سب سے زیادہ غریب اور اس سکیم کے مستحق ہیں اللہ پاک آپ کے نیک ارادوں کو تکمیل تک پہنچائے ۔آمین!

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.