تجاوزات ……….وطن عزیز کا ناسور

163

تحریر : سید عمران فیاض۔۔۔
تجاوزات ENCROACHMENTS یعنی حد سے بڑھنے والا, ناجائیز تجاوز کرنے والا . وطن
عزیز میں جہاں عوام کو دیگر بہت سے گمبھیر مسائل سے گزرنا پڑتا ھے وہاں
ناجائیز تجاوزات نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ھے.آپ جس علاقے میں بھی چلے
جائیں چھوٹی بڑی سڑکوں ,معروف شاھراہوں ,بازاروں , گلی محلوں میں لوگوں نے
ناجائز تجاوزات کی ھوئی ھیں.ان تجاوزات کی بدولت ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر
ہوتی ھے اسکے علاوہ عام لوگوں کے گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے.
ناجائیز تجاوزات ایک ایسے خوفناک عفریب کا نام ھے جس کی جڑیں پورے وطن عزیز
میں پھیلی ھوئی ھیں. ذرائع کے مطابق 50فیصد سے زائد ناجائیزتجاوزات نے وطن
عزیز کی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کیا ھوا ھے.اسکے ساتھ ساتھ قبضہ گروپ مافیا
بھی اپنی کاروائیوں میں مصروف ھے. اکثر دیکھنے میں آیا ھے کہ بازاروں ,گلی
محلوں, اھم شاھراھوں ,حتاکہ فٹ پاتھوں پر یہ ناجائیز تجاوز کندگان مقامی
بااثر شخصیات کی پشت پناہی کی وجہ سے مختلف جہگوں پر قبضہ کیئے بیٹھے ھیں. بعض
دکاندار مقامی تاجر تنظیموں کی آشیر باد کی وجہ سے اپنی دوکانوں کے آگے
برگر,شوارمہ,دھی بھلے, فروٹ چاٹ , گول گپے,ھوزری , کھلونوں سمیت مختلف قسم کے
اسٹال لگوا لیتے ھیں جن سے روزانہ کی بنیاد پر بھاری نذرانہ وصول کرتے ھیں.
ناجائیز تجاوزات اس وقت ھمارے معاشرے کا وہ بھیانک ناسور بن چکی ھے. جو کہ دن
بدن طاقتور ھوتی جارہی ھے.عوام ان سے بری طرح تنگ آچکی ھیں.اگر آپ کو کبھی
کسی اھم شاھراہ یا بازار میں سے گزرنا پڑے تو یقیناً آپ کے چودہ طبق روشن
ہوجائیں گے. اگر آپکو یا آپکی فیملی کو فٹپاتھ پر چلنا پڑ جائے تو یہ جوئے شیر
لانے کے مترادف نظر آئے گا.فٹ پاتھوں پر مختلف دوکانداروں , ریڑھی بانوں ,
اسٹالوں والوں نے قبضہ کر رکھا ھو گا. جس کی وجہ سے دن میں تارے نظر آجائیں
گے.
ناجائز تجاوزات کا یہ عالم ھے کہ فٹ پاتھ جو کہ عوام خصوصاً پیدل چلنے والوں
کے لیئے بنائے گئیے ھیں انتضامیہ کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت کی وجہ سے
یرغمال بن چکے ھیں.ان پر مختلف قسم کے اسٹال .ریڑھیاں, ہوٹل والوں نے اپنی
کرسیاں سجا رکھی ھیں .
ناجائیز تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف ہر دور حکومت میں آپریشن ھوے.لیکن
انتظامیہ کے عملہ کی ملی بھگت کے باعث ناکام ھوگئیے . کیونکہ آپریشن شروع ہونے
سے قبل ہی ان کو نامعلوم ھمدردوں کی طرف سے قبل ازیں اطلاع مل جاتی ھے.جس پر
انکروچمنٹ عملہ دو چار ریڑھیاں ,کاونٹر,پھٹے,اٹھا کر لے جا تے ھیں اور اوپر سب
اچھا کی رپورٹ ھو جاتی ھے. جو کہ بعد میں لے دے کر یا معمولی جرمانے کے عوض
واپس مل جاتا ھے.
مجودہ حکومت نے ملک کو کرپشن فری کنے کا بیڑہ اٹھایا ھے. جو کہ کس قدر صحیح
ھے وہ تو بعد میں پتہ چلے گا. کچھ دنوں سے تجاوزات اور قبضہ گرپوں کے حوالے سے
مختلف علاقوں میں آپریشن کیئے جارھے ھیں .لیکن یہاں یہ امر قابل ذکر ھے کہ جس
جگہ بھی آپریشن ھو وہاں بعد میں بھی چیک ایبڈ بیلنس رکھنا بہت ضروری ھے.اس
آپریشن کی نگرانی ایماندار اور محب الوطن ,نڈر اور بے خوف افسران سے کروائی
جائے.اس حوالے سے ٹاسک فورس کا قیام بھی بہت ضروری ھے. اس کے علاوہ تجاوزات
مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کا بھی محاسبہ کیا جاے. وزیراعظم پاکستان ,
وزیراعلی پنجاب سے گزارش ھے کہ ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران کسی
بھی قسم کی سیاسی وابستگی ,اثرورسوخ کو خاطر میں نہ لایا جائے.اور ان کے خلاف
غیر جانبدرانہ اقدام کیا جائے.تاکہ وطن عزیز کے حسن میں اضافہ ہو سکے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.