آہستہ آہستہ

185

تجھ میں جو ہے موجود یہ فن بے پروائی کا
ہوگا ہمیں بھی حاصل یہ کمال آہستہ آہستہ

ناز نہ کر اپنے حسن پر تو اے بشر
آئے گا تیرے عروج کو بھی زوال آہستہ آہستہ

بڑھا رہا ہے تو کیوںاس قدر عالم بے وفائی
پہنچے گا تجھے بھی اس کا خصال آہستہ آہستہ

عالم یہ ہے اب تواپنی حالت درد کا
ہورہا ہےیہ دل بھی نڈھال آہستہ آہستہ

مشہور زمانہ ہوگا اک دن تو بھی تو صاحب
گزر جائے گا پھر و ہ بھی سال آہستہ آہستہ

اک مدت سے طلبگار ہے تیری محبت کا علیم
بن جائیں گے ہم بھی محبت کی مثال آہستہ آہستہ

محمد علیم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.