حضرت سیدامین گیلانی و پاکستان نعت کونسل

181

تحریر: حافظ خالدزبیر جالندھری۔۔
جب میں تاریخ کےاوراق پلٹتاہوں تو میں اپنے اکابرکےناموں کو سرفہرست دیکھتاہوں اورانکی خدمات کوتاریخ کےاوراق میں سوج کی طرح روشن پاتاہوں اور آج تک اس تپش سےکفرکےایوانوں میں لگی آگ کےاثرات محسوس کررہاہوں توپھرمیں کیوں نہ کہوں کہ یہ وہ لوگ تھے جو میدان عمل میں اترتےتو اس وقت کو تاریخ کا انوکھاباب رقم ہوناپڑتاتھا۔اور ان میں بہت سی شخصیات توایسی تھیں جو ایک ایک شخص ہی ایک ایک تحریک ہوکرتا تھا جیسے شاولی اللہ ، حضرت نانوتوی، شیخ الہند،امام انقلاب،امام التفسیر،امیرشریعت، حضرت مدنی،حکیم الامت رحمتہ اللہ علیہم اور ان میں ایک نام حضرت سیدامین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ المعروف "شاہ جی” کابھی ہے ۔ شاہ جی نے تحریک ختم نبوت میں اپنا ایساکردار اداء کیا جیساعلامہ محمداقبال نے تحریک پاکستان میں اپناکرداراداء کیا۔لیکن ان میں فرق صرف اتناتھا کہ علامہ محمد اقبال نےاپنااشعار سےمسلمانوں کی ایک قوم کو بیداکیا اور شاہ جی نےاپنے اشعارسے پوری امت مسلمہ کو بیدار کیا۔۔۔۔شاہ جی امیر شریعت کےرفیق سفر تھے۔یہ شاعر حریت المعروف شاہ جی سید امین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ 1920 عیسوی ستمبر کے آخر اور 1339ھجری 10 محرم الحرام بروز جمعہ امرتسر میں پیدا ہوے۔۔۔۔آپ کے آباو اجداد گیلانی سادات سیدنا پیرِ پیراں ،شاہِ جیلاں، محی الدین ،شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے ـ جو کہ بغداد (گیلان) سے بغرض تبلیغ و تجارت ھندوستان آتے جاتے رھتے آخر ان میں سے کسی بزرگ نے بھاول پور کے علاقہ میں اُ چ گیلانیاں کے نام سے بستی آبا د کی اور اپنے پاکیزہ اخلاق اور کردار و گفتار سے غیر مسلموں کو نورِ ایمان سے منور کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اسی لگن میں دور ونزدیک کے سفر بھی کرتے رھے تجارت اور تبلیغ ان کا مقصد زندگی تھا۔ شاہ جی رح کے داداسید جمال الدین گیلانی رح کے والد سید علاوالدین گیلانی رح کشمیر اور ریاست پونچھ جایا کرتے وھاں ایک چھوٹی سی ریاست راجوری کے نام سے تھی جس کا راجہ انکے درس و تبلیغ سے متاثر ھو کر آپکے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے ایمان لے آیا اور اپنی ایک بیٹی انکے عقد میں دے دی۔ایک وقت آیا کہ راجہ نے وزیر آباد دریاے چناب کے کنارے جو” پل کھو” کے نام سے مشھور تھا وھاں ایک قلعہ نما محل تعمیر کرکے اپنے لئے رہائش اختیار کی اور اسی محل میں ایک حصہ اپنی بیٹی اور داماد کے لئے وقف کردیاوہ محل اب تک” ثمن برج” کے نام سے دریاے چناب کے کنارے موجود ھے اور اسمیں مرحوم راجہ کے بعض ورثا نسلاً بعد نسلٍ قیام پذیر ھیں ۔ شاہ جی کے دادا سید جمال الدین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور انکے بھائی اپنے والدین کی وفات کے بعد سلسلہ معاش کیوجہ سے مختلف شھروں میں آبا د ھو گئے ۔ شاہ جی رح کے صرف ایک چچا سید محی الدین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ ثمن برج میں رھے ۔ بعد ازاں وہ بھی پشاور بغرض روزگا ر آباد ہوے۔ اب اس محل میں صرف راجگان ھی آباد ھیں ـشاہ جی نےاپنے شوق مطالعہ کی وجہ سے فارسی اور اردو میں مہارت حاصل کرلی اور18سال کی عمرمیں خودکوشاعر کےوصف سے مزین پایاتو علامہ عرشی سے ملے تو انہوں آپ سےکہاکہ آپ تو مادرزاد شاعرہو اور کہاکہ میں تو پراناآدمی ہوں تم موجودہ شعراء سے اصلاح کرواتےرہاکرو تو پھرشاہ جی صوفی غلام مصطفی تبسم صاحب سےملےتو انہوں نے حوصلہ افزائی بھی فرمائی اور وقتافوقتاکلام کی اصلاح بھی فرماتے رہے۔جب ختم نبوت کی تحریک چلی توپھر آپ اسی کے ہوکررہ گئے اورپھرختم نبوت کے سرگرم کارکنان کاحصہ بن گئے جن میں مجاھدختم نبوت حضرت مولاناعبداللطیف انور شاہکوٹی رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت مولاناعالم شیخوپوری رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت مولانااللہ وسایاقاسم رحمتہ اللہ علیہ، حضرت مولانااللہ وسایا صاحب اور انہیں علماء کے ساتھ تحریک ختم نبوت کےہرمیدان میں پیش پیش رہے۔آخرکار اپنی خدمات سے ختم نبوت کی تاریخ میں ایک باب رقم کرتے ہوئے حضرت مولانا اشرف محمود ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ کی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس میں ہی حکم الہی پہ لبیک کہا اور اس دار فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے رخصت ہوگئے۔اللہ تعالی شاہ جی کی خدمات کو قبول فرماکر انکےدرجات بلند سے بلند تر فرمائے آمین ۔اور ہمیں اپنے اکابر کی خدمات کی قدردانی کی توفیق عطاء فرمائے ۔شاجی سید امین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں 4 اکتوبر بروزجمعرات بعدازنماز مغرب ایوان اقبال لاہور میں "پاکستان نعت کونسل” کےزیراہتمام تاریخ ساز "انٹرنیشنل نعت کانفرنس و سیدامین گیلانی سیمینار” منعقد ہورہاہے ہے۔پاکستان نعت کونسل کامقصدعقیدہ توحید ،عقیدہ ختم نبوت، شان صحابہ و اہل بیت کواشعارکی صورت میں بیان کرکےقوم کے ایمان سے کھیلنے والی قوتوں کامقابلہ کرناہے۔اورملی نغموں کےذریعے ملک وملت کی محبت کواجاگرکرناہے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.