نیا پاکستان :کوئی دوست رہ تو نہیں گیا ؟؟؟

174

تحریر:محمد عاصم حفیظ۔۔
زلفی بخاری بیچارے نے کروڑوں کے عمرے کی قربانی دی ۔ اس کے لئے وزارت کے برابر یہ عہدہ تو چھوٹا سا تحفہ ہے ۔ اس حساب سے جہانگیر ترین کو تو اسٹیٹ بنک دینا بنتا ہے ۔ اس نے تو دن رات ہیلی کاپٹر بھگا کر حکومت کے لئے ارکان خریدے ۔ اسے کہتے ہیں اپنوں میں ریوڑیاں بانٹنا ۔ گیس کی قیمت بڑھاؤ ۔ نئے نئے ٹیکس لگاؤ ۔ فنڈز اکھٹے کرو اور ان پر لٹاؤ جنہوں نے نئے پاکستان میں انویسٹمنٹ کی تھی ۔ جو بولے اسے 100 دن چپ رہنے کا کہو ۔ عوام کو تو گورنر ہاؤسز کی سیر کا قیمتی تحفہ دیکر خوش کر دیا گیا ہے وہ بیچارے تو اب کھانا پینا بھول بیٹھے ہیں ۔ ویسے اس بندے کی مہارت کیا ہے سوائے دوست ہونے اور سابقہ بیوی کے ساتھ پیغام رسانی کا فریضہ نبھانے کے۔ ایک عون چوہدری بھی ہے جیسے وزیر اعلی پنجاب کا مشیر بنا دیا گیا ہے ۔ اس کی مہارت بھی یہی کہ دوستی نبھانی تھی بس ۔ احسان مانی پر بھی نوازش ہو گئی ۔ یہ منتخب نہیں ہو سکتے تھے اس لئے مشیر بنا کر نوازا گیا ۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ایجاد کرنے کے پیچھے بھی خاتون اول کی ایک دوست کی سفارش تھی جسے قبول کیا گیا بلکہ اسی سہیلی کے خاوند ڈی پی او پاکپتن کو دھمکیاں دیتے رہے ۔ خاور مانیکا سے معافی مانگنے کا کہا جس پر سارا پھڈا ہو گیا ۔ لیکن دوستی کے صدقے وزارت اعلی قربان کی گئی کہ علیم خان اور دیگر بیچارے دیکھتے رہ گئے۔ ویسےبھی وزیر اعظم ہاؤس کی 60 کھٹارہ گاڑیاں بیچ کر وفاقی و صوبائی کابینہ پنجاب کے لئے درجنوں اضافی گاڑیوں کا انتظام کیا گیا ہے کیونکہ سابقہ کابینہ 24 وزرا جبکہ نئی کابینہ 46 وزراء پر مشتمل ہے ۔ ابھی تو کئی سومرو ناراض بھی بیٹھے ہیں جنہیں وزارتیں دیکر راضی کیا جائے گا ۔ بس جی کوئی بات نہ کرے بس انتظار کریں جلد الہ دین کے چراغ سے خوشحالی ۔ نوکریاں اور مکان نکلیں گے جن سے سب مستفید ہوں گے ۔ یہ جو وزراء اور دوستوں کو مشیر بنانے پر قومی خزانہ لٹایا جا رہا ہے اس کو نئے پاکستان کی تبدیلی سمجھ کر برداشت کریں ۔ جو گستاخی کرے اسے سازشی اور حاسد کہہ کر چپ کرانے کی کوشش کریں۔تیس سال ملک لٹنے کا گھسا پٹا طعنہ بھی ضرور دیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ میڈیا اوڑ سوشل میڈیا ہی بند کر دینا چاہیے تاکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ کیا کارروائیاں ڈالی جا رہی ہیں ۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.