فرق تو پڑتا ۔۔ اک سبق ہمارے لبرلز کے لئے

141

تحریر: محمد عاصم حفیظ۔۔
انگلینڈ نے بھارت کو کرکٹ ٹیسٹ سیریز میں عبرت ناک شکست سے دو چار کیا ہے ۔ انگلش ٹیم فتح کا جشن منا رہی ہے ۔ ان کے ہاں روایت ہے کہ جیت کی خوشی شراب کی بوتلوں کیساتھ منائی جاتی ہے۔ ہر کھلاڑی کے پاس ایک بوتل ہے جیسے وہ کھول کر اپنی خوشی کا اظہار کرے گا ۔ لیکن اسی تصویر میں ایک بڑا پیغام بھی ہے ۔ برطانوی کرکٹ ٹیم کے دو مسلمان کھلاڑی معین علی اور عادل رشید جنہوں نے اس جیت میں کلیدی کردار ادا کیا وہ اس شراب سے منائے جانیوالے جشن سے جا رہے ہیں ۔ جی ہاں یہی وہ سوچ کا فرق ہے ۔ شراب تو اب ہمارے ہاں بھی "حلال” کرنے کے دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں تک میں اس کی بوتلوں میں شہد اور زیتون رکھے جاتے ہیں ۔ اسمبلی ہاسٹل اور پارلیمنٹ لاجز میں اس کی بوتلیں ملتی ہیں ۔ بہت سے دانشور ایسے ہیں جو اس کے استعمال کو ذاتی فعل قرار دیکر اسلامی تعلیمات کا مذاق تک اڑاتے ہیں ۔ یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت بھی اس لت کا شکار ہوتی ہے لیکن کچھ باعمل ایسے بھی ہیں کہ جو جیت کے جشن اور خوشیوں کے جزباتی ماحول میں بھی دینی تعلیمات کی روشنی میں اس سے دور رہتے ہیں۔ شراب پینا تو دور کی بات اس کی بوتل کو ہاتھ میں پکڑ کر ضائع کرنا بھی پسند نہیں کرتے ۔ جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ بھی اپنی ٹیم کی آفیشل سپانسر شراب ساز کمپنی کا لوگو شرٹ پر نہ لگانے پر بھاری جرمانہ برداشت کرتے رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں لبرل ازم کے بخار میں مبتلا طبقے کے لئے یہ ایک سبق ہے کہ کامیابی اور اچھی کارکردگی شراب پینے یا اس کے ساتھ جشن منانے کا نام نہیں بلکہ اچھا پرفارم کرنے کا نام ہے جو کہ آپ ایک باعمل مسلمان ہو کر بھی کر سکتے ہیں ۔ معین علی اور عادل رشید انگلش ٹیم کے رکن اور یورپ کے باسی ہو کر اگر اپنے عمل سے اسلامی حمیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں تو ہماری نوجوان نسل کو بھی اس بارے سوچنا چاہیے کہ ترقی محنت و لگن سے کارکردگی دیکھانے کا نام ہے نہ ماڈرن ازم اور لبرلزم کے لبادے میں دینی تعلیمات سے دوری اور ان کا مذاق اڑانے کا ۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.