ڈیم ۔فل

2,884

تحریر: آئمہ محمود۔۔
نئی سرکار کے مسند افروز ہونے سے عوام کے وہ حلقے جو طرز حکومت میں Novelty اور وکھرے پن کی خواہش کر رہے تھے انکی توقعات اگرچہ مکمل طور پر پوری تو نہیں ہو رہیں تاہم انکی امید ضرور بندھ گئی ہے۔ اہل اقتدار نے جو اٹھان لی ہے وہ بظاہر اسی روش کی نشاندہی کرتی ہے جو وہ بحیثیت اپوزیشن اپنائے ہوئے تھے لیکن حکومت سازی بلکہ بازی کے حوالے سے یہ یقینا مختلف ہے ۔ موجودہ گورنمنٹ میں سبھی پر سب کچھ نیا کر نے کی دھن سوار نہیں یوں لگتا ہے کہ کچھ پرانی وضع کے ناسٹلیجک (Nosgtalgic) بھی وہاں ہیں جنھیں اولڈ ہمیشہ گولڈ لگتا ہے تبھی تو یہ ہوا کہ 12سال پرانا ایک منصوبہ closet سے نکالا گیا جھاڑ پونچھ کے بیچ کمرے میں رکھ کر سب سیانے اس کے گرد سنجیدگی سے بیٹھ کر سوچنے لگے کہ اس سفید ہاتھی کو کا غذوں سے زمین پر کیسے اتارا جائے؟ کیونکہ وسائل ندارد اور کوئی مائی باپ دست شفقت رکھنے پر تیار نہیں ۔ کیا تو کیا کیا جائے؟ جب دماغ کی بتی جلی تو فیصلہ ہوا اہل پاکستان سے پیسے مانگتے ہیں خاص طور پر ان سے جو بیرونی ممالک میں ڈالروں میں کمایا ں کر رہے ہیں۔ان کے دل میں ملک کا درد بھی زیادہ ہے۔ کیوں نا اسی درد کو دوا بنایا جائے۔
لو جی پہلا مرحلہ تو طے ہوا ۔ چندے کی اپیل کیساتھ اس ڈیم فنڈ کو بھی endorse کیا گیا جو ملک کی اعلی ترین عدالت کے اعلی ترین سربراہ پہلے ہی سے بنا چکے ہیں۔ جی ہاں آپ جانتے ہیں یہ پرانا منصوبہ ہے بھاشا ڈیم ۔ جس کے لیے ہماری Newly formlated حکومت وسائل کی جمع شدہ گی کی تحریک چلا چکی ہے۔ ڈیم ہے تو بلا شبہ اس کا تعلق پانی سے ہے۔ پانی دنیا کی کم یاب اور گراں ترین commodity بنتا جا رہا ہے۔ گلوبلی 1.2 بلین سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 تک ورلڈ کی دو تہائی آبادی پینے کے پا نی سے محروم ہو جا ئے گی یہ دو تہائی آبادی کی اکثریت تیسری دنیا کے ملکوں کی ہے پاکستان بد قسمتی سے جن میں سے ایک ہے۔
یوں تو کرہ ارض کا 70 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہے لیکن پینے کا فریش واٹر صرف 3% ہے اس تین میں سے بھی ٹو تھرڈ گلیشرز اورسنوفلیڈ کی شکل میں ہے باقی صرف ون تھرڈ پر بنی نوع انسان کا انحصار ہے۔پاکستان میں پانی کی قلت کے خاتمے کے حوالے سے گذشتہ حکومتوں کی منصوبہ سازیاں اور عملی اقدامات ہمیشہ نہ کافی رہے ہیں۔موجودہ حکومت پچھلے پانچ سال ایک مضبوط اور loud اپوزیشن رہی ہے لیکن کبھی بھی پانی کے مسلے کے حوالے سے کسی قسم کے پلان یا بے چینی اور اضطراب کا اظہار نہیں کیا۔ نہ ہی کبھی تب کی سرکار کو پانی کی سنگینی کو address کرنے کیلئے متوجہ کیا۔ اپنے احتجاجی دھرنوں میںبھی کبھی کسی رہنما نے غلطی سے بھی اس ایشو کا ذکر تک کرنے کی زحمت تک نہ کی ۔ لیکن یہ خوش آئنید بات ہے کہ ہمارے پرائم منسٹر کے سامنے بالاآخر وہ تمام اعدادوشمار آگئے ہیں جو پانی کی کمی کے سلسلہ میںمستقبل کی کافی bleak تصویر پیش کرتے ہیں انھوں نے جلدی سے اسکا جو حل پیش کیا ہے اس کے ساتھ بہت سے ،،لیکن،، پیوستہ ہیں ان پر بات کرنے سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش ضروری ہے کہ جو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک میں صرف دو چار ڈیمز کے علاوہ کوئی ڈیم نہیں وہ درست نہیں۔International commission on large dams کے مطابق پاکستان میں reservirs and Dams جن کی اونچائی (49ft) 15m ہے ان کی تعداد 150 ہیتربیلا دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم ہے ۔ آزاد جموںوکشمیر اور گلگت بلتستاں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہر صوبے میں ڈیم موجود ہیں ۔ 2006جنوری میں پرویز مشرف نے ملک میں آئندہ 10سے 12 سالوں میں مختلف ڈیمز کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے بھاشا ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ۔ 18اکتوبر 2011میں وزیر اعظم یو سف رضا گیلانی نے ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے تختی کی نقاب کشائی کی۔بھاشا ڈیم کی تعمیری لاگت ایک اندازے کے مطابق کم از کم 12بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے اور اس کے مکمل ہونے میں 9 سال لگ جائیں گے۔
2012 میں ورلڈ بینک اور ایشین بینک نے اس پروجیکٹ کو فنڈ کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کہ مطابق اس ڈیم کی لوکیشن متنازع ہے اور پاکستان کو اس ڈیم کی تعمیر سے پہلے انڈیا سے NOCلینا ہو گا۔ سی پیک کے تحت اس پروجیکٹ کی تکمیل بھی موخر کر دی گئی کیونکہ چین نے اس کی تعمیر اور ملکیت کے حوالے سے سخت شرائط عائد کی تھیں ۔ اس ڈیم کی افادیت کے حوالے سے بھی کئی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق بھاشا ڈیم کے پہاڑی علاقے کے باعث اس سے Irrigation canals نہیں نکالی جا سکتی ۔ ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ 31گاوں ، 4100گھرمتاثر اور زیرآب آنے والا رقبہ 25000ایکڑ (100km) ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بھاشا ڈیم کی بجائے داسو ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت کم خرچ بالا نشین کے اصول کو اپناتے ہوئے اہم ترین قومی مسائل پر مشاورت کی پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے جدید اور موثر طریقے کار اختیار کرتے ہوئے پانی کی کمی کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرئے ۔ بڑے پروجیکٹ جن کے لیے وسائل بھی دستیاب نہیں کی بجائے ملک کے نہری نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی کرے اورحکومت پبلک اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اس سلسلے میں حکمت عملی تشکیل دے سکتی ہے۔ چھوٹے ڈیموں کے ذریعے پانی کی سٹوریج اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے پر توجہ وقت کا تقاضہ ہے ۔ کسانوں کو پانی بچانے کے حوالے سے جدید طریقوں سے متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے غور کرنا ہو گا۔کراچی میں پینے کے پانی کی قلت دور کرنے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات حکومت کی سنجیدہ کاوشوں کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہوں گے۔پوری دنیا میں اس بات پر غور وخوص ہو رہا ہے کہ پانی کو بچانے کیلئے کیا کیا بہتر اور جدید طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں ڈیم کے ذریعے پانی محفوظ کرنا صرف ایک طریقہ ہے اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ یہ ہی واحد حل ہے۔ گرمیوں میں high evaporationکی وجہ سے بڑی مقدار میں ڈیم میں پانی سٹور کرنا بھی کچھ زیادہ عقل مندی والا قدم نہیں۔ زراعت میں new technology کے ذریعے پانی کا موثر استعمال، پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر اور national plan for water security تشکیل دے کر حالات میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ڈیم بنانا ایک اچھا سیاسی نعرہ توہو سکتا ہے کیونکہ ایک بڑا اور وسیع ترین منصوبہ ہوتا ہے جو سیاسی طور پر تو کا فی دل کش ہے لیکن پانی کے سنجیدہ اور سنگین مسلے کے حل کے طور پر ہمیشہ آئیڈیل نہیں ۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.