ایک عہدوفا جو تمام ہوا

181

تحریر:اذکاءرمضان۔۔
ُ؁؁سن۱۹۶۵ء سماںمیدان جنگ کا۔پاک بھارت تصادم چل رہا ہے۔پاک فوج کا ایک دستہ دشمن کے علاقے میںپیچھے ہٹتے ہوئے حملہ کرنے کی سوچ رہا ہے۔ایسے میںایک سپاہی اپنے کمانڈر کو کور کرنے کی درخواست کرتا ہے ۔ کمانڈر ناچار اسے اجازت دیتا ہے تو سپاہی جزبات سے لبریزسیلوٹ کر تا ہے اور دشمن پر تباہی بن کر ٹوٹ پڑتا ہے۔تبھی ایک گولہ سپاہی کے قریب آکر پھٹتا ہے جس کے سبب وہ زخمی ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے۔دشمن فوج اسے قیدی بنا لیتی ہے۔مگر جلد ہی انکو احساس ہوتا ہے کہ وہ سپاہی ان کو کوئی معلومات دینے کا ارادہ نہیںرکھتا لیکن وہ اسے اذیت دیتے اسے مجبور کرتے کہ پاکستان!مردہ باد کے نعرے لگائے مگر اس کی حب الوطنی کا یہ عالم تھا کہ پھر بھی اس کے منہ سے پاکستان زندہ باد ہی نکلتا۔پھرچاہے اس جرم کی پاداش میںاسے ہمیشہ کے لئے زبان سے محروم کر دیا جائے۔

سن ۲۰۰۵ء میں چند سول قیدیوںکو رہا کیا گیا تو ان کے ساتھ ایک ۶۸سالہ بزرگ بھی تھے جن کے حوصلے جوان تھے۔جن کے چہرے پرجھریاں تھی مگر رگوںمیںجوشیلا خون دوڑ رہا تھا۔جن کا رنگ و روپ تو جھریوں کے باعث ماند پڑ گیا تھا مگرقید کے باعث جذبہ وجنوں نہیں۔جو خود تو نہیںبول سکتے تھے مگر ان کی آنکھیں بولتی تھیں۔
سب قیدی اپنے پیاروںسے مل کر اپنے کھوئے ہوئے پل جی رہے تھے مگر وہ بزرگ ایک انجانی منزل کے جانب رواںدواں تھے۔کاغذپر لکھے پتے پر جب بھولا بسرا انجان منزلوںکا مسافر جب پہنچا تو اک تہلکہ مچ گیا۔
کشمیر رجمنٹ کے کمانڈر کے سامنے اپنی پورے طاقت کے ساتھ سیلوٹ کرنے کے بعداس نے کاغذپر۳۳۵۱۳۹لکھا تو کوئی سمجھ نہ سکا لیکن تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ چالیس سال قبل کشمیر رجمنٹ کا لاپتہ سپاہی چالیس سال قید میں گزارنے کے بعد آج اپنی ڈیوٹی پر موجود ہے۔
وہ جس کو اپنا فرض اپنے گھربار سے پہلے یاد آیابدقسمتی کا یہ عالم تھا کہ نہ تو ماںنہ ہی بھائی اس کو خوش آمدید کہنے کو زندہ تھے گویا کہ ان چالیس سالوںنے اس پرجسمانی،ذہنی اور جذباتی ہر لحاظ سے ستم ڈھائے۔مگر وہ تو سب کچھ سہہ گیا تھا۔لیکن اب بس۔ ۔ ۔اب پاکستان آرمی نے اس عظیم شخصیت کی نگہداشت سنبھال لی۔مگر صرف ۱۳سال قوم کو خدمت کا موقع دے کر وہ جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ مگر جرات و استقامت کا وہ پیکر آنے والی نسلوںکے لیے نشان عظمت ہے۔آج بھی سرحد پر کوئی جانبازاپنے جان جوکھم میں ڈالتا ہے تووہ مقبول حسین کا ہمت وحوصلہ بولتا ہے۔جب سات سمندرپار کوئی جوان اپنے وطن کی حفاظت میںمصروف ہوتا ہے تو مقبول حسین کا جوش وخروش دکھتا ہے۔اورتکالیف سہارتا کوئی فوجی بہادری دکھاتا ہے تومقبول حسین کا صبر و استقامت زندہ کرتا ہے۔اس عظیم انسان کے لامتناہی جذبوںکا کوئی مول ہی نہیں تو اگر ہم اسے کچھ دے سکتے ہیں تو وہ ہے ایک خراج عقیدت۔قوم تیری عظمت کو سلام کہتی ہے مقبول حسین۔ ۔ ۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.